بنگلورو،20؍ جون (ایس او نیوز)کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس ایڈی یورپا کو عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے ایم ایل سی اے ایچ وشوناتھ نے جمعہ کو الزام لگایا کہ محکمہ آبپاشی نے 21473 کروڑ روپئے کا ٹینڈر جلد بازی میں تیار کیا تھا، بغیر کسی مالی منظوری کے اس میں گھوٹالہ ہواہے۔ انہوں نے ایڈی یورپا کے بیٹے اور ریاستی بی جے پی کے نائب صدر بی وائی وجیندر پر سرکاری کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔
وشواناتھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ محکمہ آبپاشی میں 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا معاہدہ تیار کیا گیا ہے جو بھدرا نہرپروجیکٹ اور کاویری آبپاشی پروجیکٹ سے متعلق ہے۔ کوئی مالی منظوری نہیں لی گئی، بورڈ کا کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ یہ عجلت میں کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ٹھیکیداروں سے رشوت لینے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ وشوناتھ بی جے پی سے قانون ساز کونسل کے ممبر ہیں اور دو سال قبل جنتا دل (ایس) سے تعلقات توڑنے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ کیا یہ ایسی حکومت ہے جو ٹھیکیداروں کے مفادات کے بارے میں سوچتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے وزراء سمیت پوری ریاست وجیندر کی انتظامیہ میں مداخلت کی بات کررہی ہے۔ وشواناتھ نے کہاکہ آج کون سا وزیر مطمئن ہے؟ وجیندرکا ہر شعبہ میں مداخلت ہے۔ وشواناتھ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور کرناٹک کے انچارج ارون سنگھ ریاست کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ کچھ ارکان اسمبلی کے ایڈی یورپا کی برطرفی کے مطالبہ کے تناظر میں ارون سنگھ ریاستی لیڈروں سے بات چیت کرنے کے لئے کرناٹک میں ہیں، جمعہ کو اپنا دورہ ختم کرنے سے پہلے ارون سنگھ پارٹی کی کور کمیٹی میٹنگ میں شریک رہے۔